سٹاک مارکیٹ میں مندی اور آپ کی حکمتِ عملی

مصنف: اعجاز عالم | موضوع: کاروبار


کسی نے درست کہا ہے کہ سٹاک مارکیٹ انسانی نفسیات کے دو اہم جزو پر کام کرتی ہے، یعنی کہ خوف اور لالچ۔ جی ہاں خوف نقصان کا اور لالچ زیادہ منافع کمانے کی۔ اسی لیے زیادہ تر لوگ مارکیٹ میں مندی دیکھ کر اپنے حصص بیچ رہے ہوتے ہیں اور کچھ سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی امید پر شئیرز کی خریداری میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے سارا دن مارکیٹ میں اتار چڑھائو جاری و ساری رہتا ہے۔

ایک دن کے اتار چڑھائو سے بات واضح ہوتی ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں سنجیدہ سرمایہ کاروں کے لیے کوئی خاص رغبت نہیں ہوتی، ہاں اس میں چھوٹے ٹریڈر حضرات چھوٹے موٹے فوائد حاصل کرتے رہتے ہیں۔جب سٹاک مارکیٹ میں مندی آ جاتی تو بہت سے لوگ نقصان کے خوف سے فوراً اپنے حصص بیچنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ مزید دبائو میں آ جاتی ہے۔

اگر سٹاک مارکیٹ بغیر کسی خاص وجہ کہ مندی کا شکار ہو گئی ہے یا کریکشن لے رہی ہے اور ملک کے مالیاتی اشارے بھی مثبت ہوں تو اپنی پسندیدہ کمپنی کے شیئرز کو نقصان پر بیچ دینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ عام ٹریڈرز جن کو عرفِ عام میں ڈے ٹریڈرز کے نام سے جانا جاتا ہے، شیئرز کی خریداری اس وقت شروع کرتے ہیں جب ان کی قیمت بڑھنا شروع ہوتی ہے۔ جبکہ سمجھدار لوگ اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب کسی کمپنی کے حصص کی قیمتیں انتہائی نچلی سطح پر پہنچ جاتی ہیں۔ اس مقام پر وہ خاموشی سے سستے داموں شیئرز جمع کرتے رہتے ہیں۔

جب سٹاک مارکیٹ میندی سے تیزی کی طرف بڑھنا شروع کرتی ہے تو اس وقت جب سونگ ٹریڈرز شیئرز خریدنے آتے ہیں تو یہ سمجھدار لوگ بہتر قیمت پر اپنی ہولڈنگ انکو تھما دیتے ہیں اور زیادہ منافع کما کر سائیڈ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ ہی سٹاک مارکیٹ میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، باقی سب میری طرح اپنا نقصان ہی پورا کرنے کے چکروں میں رہتے ہیں۔

یاد رکھیں جب کبھی مارکیٹ کریکشن لیتے ہوئے شدید مندی کا شکار ہو جائے تو اس وقت مضبوط مالیاتی نتائج والی کمپنیوں کے شیئرز کا جائزہ لیجئے، وہ یقیناً آپ کو نہایت ہی سستے داموں دستیاب ہوں گے۔ اور جب مارکیٹ واپس جائے گی (جو کہ اس نے ہر حال میں جانا ہوتا ہے) تو آپ اچھا خاصا منافع کما لیں گے۔ اس کے لیے آپ میں بھر پور اعتماد ہونا چاہئے جو کہ صرف تب ہی ہو سکتا ہے جب آپ نے اس موضوع کے متعلق بھر پور علم حاصل کیا ہو اور آپ میں بروقت درست فیصلہ کرنے کی اہلیت ہو۔ کسی نے کیا خوب بات کی ہے کہ:

"Buy when the blood is running in the street and sell when everyone is pounding at your door, clawing at your equities".

یعنی کہ جب چاروں طرف خوف اور خطرے کی وجہ سے لوگ اپنے شیئرز بیچ رہے ہوں تو اس وقت آپ میں اتنی ہمت اور حوصلہ ہونا چائیے کہ آپ خریداری کریں اور جب مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سے لوگ 'سامنے' کے ریٹ پر لے رہے ہوں تو تب آپ خاموشی سے انہیں اپنے شیئرز تھما دیں۔ یاد رکھیں سٹاک مارکیٹ میں زیادہ منافع کریکشن یا مندی کے دوران ہی کمایا جا سکتا ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں عام لوگ رش یا ہجوم کے پیچھے ہی چلتے ہیں یعنی کہ وہی کرتے ہیں جو سب لوگ کر رہے ہوتے ہیں، لیکن کیا آپ کو یقین ہے کہ جو کام سب لوگ کر رہے ہوں وہ درست بھی ہو؟ یعنی کہ اگر آپ کا سارا ہائوس آج اپنے حصص بیچ رہا ہے تو کیا وہ بالکل سو فیصد درست قدم ہے؟

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ شدید مندی کے دوران جب شیئرز کو نچلی سطح کے لاک لگ جاتے ہیں تو بہت سے لوگ پریشانی کے عالم میں اس انتہائی نچلی قیمت پر بھی اپنے شیئرز بیچنے کے لیے لگا دیتے ہیں۔ اگر آپ اس شیئر کے والیم کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ اس ریٹ پر بھی والیوم میں کمی بیشی ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی تو ہے جو اس قیمت پر شیئرز خرید رہا ہے۔

جی ہاں شارٹ کور کرنے والوں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے ہیں جو اس شیئر کی کم ترین قیمت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خریداری کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں؟ جی ہاں یہ وہی ہیں جو سٹاک مارکیٹ میں سے زیادہ منافع حاصل کرتے ہیں۔

لہذا اب جب کبھی مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہو جائے اور ہر طرف خوف کا رقص ہو تو اپنے ہوش و حواس قائم رکھتے ہوئے شیئرز کی قیمت اور اسکے والیوم کا پوری توجہ سے جائزہ لیجئے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ، ملکی اور بین الاقوامی حالت سے مکمل آگہی رکھیے۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہے اور مارکیٹ کریکشن کے دور سے گزر رہی ہے تو آپکا خود پر اعتماد نہ صرف آپکو نقصان سے بچائے گا بلکہ آپ سٹاک مارکیٹ سے بے پناہ منافع بھی حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ یہاں ہم صرف عام مندی کی بات کر رہے ہیں، مارکیٹ کی تیزی یا مندی کے ٹرینڈ پر اگلی پوسٹ میں بات کریں گے کیونکہ اس کی حکمت عملی ذرا مختلف ہوتی ہے۔

Share

You May Also Like

Add Your Thoughts